چولستان میں دفن کی گئی ماں اور اونٹنی کے دودھ کی سبیل
بہاول نگر کے تین بھائی اپنی 75 سالہ بیمار اور ضعیف ماں سے تنگ آ چکے تھے۔ ایک روز ماں کو بہانے سے گاڑی میں بٹھایا اور شہر سے 200 کلومیٹر دور چولستان کے سنسان ریگستان میں لے گئے۔ بےحسی کی انتہا کرتے ہوئے اُسے ریت میں زندہ دفن کر دیا — صرف اس کی گردن باہر رہنے دی۔
اسی دوران، تقدیر نے ایک قافلے کی راہ اس ویرانے کی طرف موڑ دی۔ اونٹوں پر سوار قافلے والوں کی نظر جب گردن تک دھنسی اس خاتون پر پڑی، تو وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ قریب جا کر اُسے نکالا، پانی پلایا، اور حال دریافت کیا۔ بڑھیا نے لرزتی آواز میں بیٹوں کے ظلم کی داستان سنا دی۔
قافلے کا ایک نوجوان اس ظلم سے بےحد متاثر ہوا۔ وہ فوراً اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر بہاول نگر پہنچا، اور شہر کے مرکزی چوک میں اونٹنی کا دودھ مفت تقسیم کرنے لگا۔
دو دن تک لوگ سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ سبیل کیوں لگائی گئی ہے۔
تیسرے دن، بڑھیا کا چھوٹا بیٹا بھی اس سبیل پر آن پہنچا — دودھ مفت دیکھ کر للچا گیا۔ نوجوان نے اُسے غور سے دیکھا اور دھیمے لہجے میں کہا:
"یہ دودھ ایک ماں کے دکھ کا صدقہ ہے… وہی ماں، جسے تم نے ریت میں دفن کر کے پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

Comments
Post a Comment