چند دن پہلے ایک پیٹھان ڈرائیور انٹرویو میں کہہ رہا تھا اس نے لونڈی بازی کے لیے ٹرک میں ایک بچہ رکھا ہوا ہے۔ اس کی وجہ وہ یہ بتا رہا تھا کہ سماجی اور مذہبی دباؤ کی وجہ سے وہ اپنی بیوی ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ اس نے سو فیصد سچ بولا۔ اس کی جرات کو سیلوٹ ۔ اگر جائزہ لیں تو اس پورے خطے یعنی افغانستان سے لیکر نیپال تک آٹھ ملکوں میں 50٪ سے زیادہ ٹرک ڈرائیوروں نے بچہ رکھا ہوتا ہے۔ ہاں انڈیا میں اس کی شرح کم ہے کیونکہ وہاں سڑکوں کے کنارے بنے ہوئے ڈھابوں میں عورتیں دستیاب ہیں۔ ٹرک ڈرائیوروں کے بچہ رکھنے کی بنیادی وجہ ورک لوڈ کا زیادہ ہونا ہے۔ ڈرائیوروں کی تنخواہیں کم ہیں ۔ وہ آمدنی کو بڑھانے کے لیے دن رات لگے ہوتے ہیں ۔ دو دو مہینے ان کا گھر چکر نہیں لگتا۔ پھر وہ لونڈے بازی کرتے ہیں ۔ ہر ڈرائیور چونکہ پہلے لونڈا ہی ہوتا ہے اس لیے وہ اس فعل کو برا نہیں سمجھتا۔ وہ عورت سے زیادہ لونڈے بازی میں سکون محسوس کرتا ہے ۔ یہ تو ایک ڈرائیور نے مانا ہے کہ میں ٹرک میں لونڈے بازی کرتا ہوں ورنہ حقیقت میں یہ مرض تمام ٹرک ڈرائیوروں میں پائی جاتی ہے بس فرق یہ ہے باقی ڈرائیور انٹرویو دینا نہیں چاہتے ۔
لونڈے بازی ویسے آجکل عمومی طور پر پوری دنیا میں پھیل رہی ہے مگر افغانستان اور کے پی کے میں اس کی شرح بہت زیادہ ہے ۔ وہاں ہر وہ بندہ جو بچہ افورڈ کر سکتا ہے بچہ رکھتا ہے۔ وہاں بچے کی وجہ سے جھگڑے بھی ہوتے ہیں اور کئی بار نوبت قتل و غارت تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ لونڈے بازی پنجاب یا سندھ میں نہیں ہوتی مگر پشتون علاقوں میں اس کی شرح حطرناک حد کراس کر چکی ہے ۔ اس کی وجہ پشتون علاقوں کی سماجی زندگی ہے۔ وہاں کی روایات میں عورت کو گھر کی چار دیواری میں چھپا کر رکھنا ہے( پشاور کو چھوڑ کر)۔
آپ مجھے گالیاں دینے والے ہیں مجھے معلوم ہے مگر میں گالیوں کے ڈر سے سچ لکھنا نہیں چھوڑ سکتا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی شرم نہیں کہ جس سماج میں عورتوں کو چھپا چھپا کر رکھا جاۓ، بے جا پابندیاں ہوں وہاں لونڈے بازی کو روکا نہیں جا سکتا ۔ ٹرک ڈرائیوروں کے لیے خصوصی طور پر لونڈے بازی ایک ضروری برائی ہے ، مجبوری ہے ۔۔۔۔ ورنہ لونڈے بازی کوئی فطری حرکت نہیں ۔
منقول
کابی

Comments
Post a Comment