شیتل 32 سالہ لڑکی کے ہاتھ میں قُرآنِ مجید موجود تھا ، قران کریم کو تھامے پر سکون انداز میں ثابت


 32شیتل سالہ لڑکی کے ہاتھ میں قُرآنِ مجید موجود تھا ، قران کریم کو تھامے پر سکون انداز میں ثابت قدمی سے آگے بڑھی۔ اپنے بھائی کو قران کریم تھمایا اور ان سے مخاطب ھوکر کہا کہ صرف گولی مارنے کی اجازت ھے۔ جبکہ اس لڑکی کا موجودہ شوہر اور عاشق بھی اسی قتل گاہ میں موجود تھا۔ اس کو بھی پکڑ کر لایا گیا تھا۔

پھر اس کے بھائی نے قران کریم لیکر قران کریم پر بوسہ دیا۔ اور اس دوران ایک اور شخص نے اس لڑکی کو مقتل گاہ کے مخصوص مقام پر جانے کا کہا۔ کچھ آگے بڑھی گولی کا ھلکہ انتظار کیا لیکن ایک آواز آئی کہ تھوڑا سا اور آگے جائے، پیچھے ہلکہ سا مڑ کر دیکھا لیکن پھر استقامت کے ساتھ آگے بڑھی اور وہاں کھڑے ھوکر گولیوں کا انتظار کیا۔
فائرنگ ھوئی شیتل کو گولیاں لگی۔ اس کے عاشق کو دو گنا زیادہ گولیاں ماری گئی۔ ویڈیو کا اختتام ھوا۔
یاد رھے کہ اس واقعہ میں ایک مرد اور ایک عورت کا قتل ھوا ھے لیکن بات لڑکی کی اسلئے زیادہ ھورھی ھیکہ یہ تو امن پرست ھوتی ہیں عاجز بھی۔ موت تو برحق ھے اس نے تو آنا ہی تھا لیکن اس لڑکی کا بہادری کے ساتھ موت کو گلے لگانا ایک لمحہ فکریہ ضرور ھے۔ قصے کہانیاں بہت ھے اور اللہ تعالی شیتل کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ لیکن سننے میں یہی آرھا ھے کہ شیتل کا نکاح کسی زیادہ عمر والے شخص سے کروائی گئی تھی۔ شیتل اور اس کے عاشق نے جس دن بھاگنے کا فیصلہ کیا دراصل اسی دن اس کو اپنے انجام کی خبر تھی اور اس نے موت کو قبول کرلیا تھا۔ گویا موت کو قبول کیا لیکن اس زندگی کو نہیں جس کو وہ کرب ناک سمجھ بیٹھی۔ ی لڑکا اور لڑکی دونوں پکڑے گئے، جرگی ھوا، عین ممکن ھے شریعت کے اصول بھی دیکھے گئے ھونگے پھر یہ اوپر کا سارا واقعہ پیش آیا۔ لیکن لمحہ فکریہ یہی ھیکہ خاندان میں ایسے افراد نے اس لڑکی کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش یا اس فیصلے پر راضی کرنے کی کوشش کیوں نہ کی۔ پہلے تو جب لڑکی کی رضامندی نہ تھی وہاں نکاح کا تصور کرنا ہی غلط تھا لیکن جب فیصلہ ھوگیا تو تب تو کوشش کرنی چاھئے تھی تاکہ یہ لمحہ نہ آتا۔ والدہ کا کردار اس میں اتنا کمزور کیونکر پڑ گیا۔ کہ وہ اپنی بیٹی کی زندگی نہ بچا سکی اور ایسے فیصلے پر مجبور ھوئی کہ بچی کیلئے موت تو پسند آئی گگر کے دیگر خواتین کا کردار بھی اس المیہ کی ایک کڑی ھے۔ کیا اس واقعہ کے بعد ھمارے خاندانوں کے اندر فیصلہ کرتے وقت ان معاملات کو دیکھا جائیگا۔ سوال یہ بنتا ھے۔

Comments