اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
30 سالہ وقاص رضا، جو ماڈل ٹاؤن چوک ملتان میں ایک رئیل اسٹیٹ آفس چلا رہا تھا، زندگی کی کسی ایسی ج ن -گ سے ہار گیا جس کا شور صرف اس کے دل میں تھا۔
دفتر میں کام کی فائلیں، کتابیں، اور ایک بورڈ جس پر لکھا تھا:
"WHEN YOU TAKE OWNERSHIP OF ALL YOUR FLAWS AND WEAKNESSES, YOU'VE WON."
مگر شاید وہ ج-ن گ بہت خاموش اور بہت تنہا تھی۔
اس نے آخری پیغام فیملی گروپ میں بھیجا:
"میری ڈ-یڈ باڈی آفس سے آکر لے جائیں۔"
اور جب کزنز پہنچے، تو وہ سا-نسیں بند ہو چکی تھیں۔
کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کس کر--ب سے گزر رہا تھا، کیا دکھ تھا، مگر یہ حقیقت ہمیں ایک بار پھر جھنجھو-ڑتی ہے کہ
زندگی کی چکاچوند میں بہت سے لوگ اندر سے ٹ و-ٹ رہے ہوتے ہیں۔
اگر آپ کے آس پاس کوئی چپ ہے، تھکا ہوا ہے، الگ تھلگ ہے — تو اسے صرف وقت نہیں، توجہ، محبت اور سننے والا دل چاہیے۔
خودکشی کے واقعات میں لوگ مرنا نہیں چاہتے وہ چاہتے ہے ہمارے دکھ مر جائے لیکن یہ دنیا
وہ جو مرنے پہ تلا ہے
اس نے جی کر بھی تو دیکھا ہوگا
اگر راستے میں مجھے ایک بھی شخص مُسکرا کر مِلا یا کسی نے کم از کم ایک نظر اپنائیت اور ٹھہراؤ سے مجھے دیکھا، تو میں لوٹ آؤں گا۔
فرانس میں پُل سے کُود کر خ ودک ش ی کرنے والے اکتالیس سالہ رائٹر روڈرگ کیپریو کی آخری تحریر


Comments
Post a Comment